32

تحریک طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان کیس میں پشاور ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کر لیا

پشاور ہائی کورٹ نے کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان کے خلاف دائر رٹ میں وفاقی حکومت سے جامع جواب طلب لیا۔ دو رکنی بنچ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کس قانون کے تحت تفتیش کی جاری ہے۔

پشاورہائی کورٹ میں سرنڈر کرنے والے کالعدم تحریک طالبان کےسابق ترجمان احسان اللہ احسان کیس کی سماعت ہوئی۔ سانحہ آرمی بپلک سکول کی زمہ داری قبول کرنے والے ٹی ٹی پی کے ترجمان کیخلاف آرمی پبلک سکول میں شہید ہونے والےطالبعلم کے والد کی جانب سے رٹ دائر کی گئی تھی۔ کیس کی سماعت پشاورہائی کورٹ کے چیف جسٹس یحیی آفریدی اورجسٹس اعجاز انورپر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔

2011 ٹی ٹی پی اور جماعت الحرار کے ترجمان رہنے والے احسان اللہ احسان نے رواں سال 17 اپریل کو آریشن کے دوران سرنڈر کیا تھا ۔ جس نے وفاقی حکومت سے معافی کی درخواست کی ہے۔ جس پر سماعت کے دوران موکل کے وکیل نے عدالت عالیہ کو کہا کہ کیا وفاقی حکومت احسان اللہ احسان کو معافی دے رہی ہے۔ جس کے جواب میں وزارت دفاع نے تحریری جواب دیا تھا کہ ابھی احسان اللہ احسان سے تفتش جاری ہے

وزارت دفاع کے جواب پر موکل کے وکیل کا کہنا تھا کہ وزارت دفاع کی جانب سے ایک لائن جواب داخل کیا گیا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ وفاقی حکومت نے درخواست گزار کے تحفظات تسلیم کر لیئے ہیں۔اورکالعدم تحریک طالبان کے ترجمان کو معاف کر دیا جائے گا۔کیونکہ تحریری جواب میں واضح نہیں ہے کہ ان کو معافی نہیں دی جا ئیگی ہے۔ جس پر دو رکنی بینچ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کس قانون کے تحت تقتش کی جا رہی ہے۔ جس پر وفاقی حکومت سے جامع جواب طلب کرلیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں