12

نوازشریف کی پاناما فیصلے کیخلاف درخواستوں کا تفصیلی فیصلہ جاری

23 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس اعجاز افضل خان نے تحریر کیا
فیصلے میں جسٹس آصف سعید کھوسہ کا اضافی نوٹ بھی شامل
میرے انفرادی فیصلے کے خلاف کوئی دلائل نہیں دیئے گئے،جسٹس کھوسہ
پاناما فیصلے میں میری آبزرویشن پر کوئی سوال بھی نہیں اٹھایا گیا،اضافی نوٹ
بینچ کے ارکان کو فیصلے پر نظرثانی کیلئے قائل نہیں کیا جا سکا،جسٹس کھوسہ
وکلاء عدالتی فیصلے میں غلطیوں کی نشاندہی نہیں کر سکے،تفصیلی فیصلہ
فیصلے میں تبدیلی کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی، سپریم کورٹ
نگران جج کا تقرر ٹرائل پر اثر انداز نہیں ہوگا، تفصیلی فیصلہ
نگران جج کا تقرر ٹرائل کو شفاف بنانا تھا،تفصیلی فیصلہ
ٹرائل کورٹ آزادی سے شواہد کی روشنی میں فیصلہ کرے،سپریم کورٹ
ٹرائل کورٹ کسی آبزرویشن سے متاثر ہوئے بغیر فیصلہ کرے،تفصیلی فیصلہ
شواہد کمزور ہوں تو ٹرائل کورٹ مسترد کر سکتی ہے،تفصیلی فیصلہ
جسٹس اعجاز الاحسن نے اپنے فیصلے میں ایف زیڈ ای کی تحقیقات کا کہا،تفصیلی فیصلہ
تحقیقاتی نوعیت کی سماعت درخواست گزاروں کیلئے حیران کن نہیں تھی،تفصیلی فیصلہ
نواز شریف کی نااہلی تسلیم شدہ حقائق پر کی گئی،تفصیلی فیصلہ
نواز شریف نے جان بوجھ کر اثاثے چھپانے کے مرتکب قرار پائے،تفصیلی فیصلہ
اثاثے چھپانے کو غلطی تسلیم نہیں کیا جا سکتا،تفصیلی فیصلہ
نواز شریف کی نااہلی سے متعلق حقائق غیر منتازعہ تھے،فیصلہ
یہ نہیں کہا جا سکتا ,,کہ فیصلے سے نواز شریف کو حیران کر دیا گیا، فیصلہ
مریم نواز بادی النظر میں لندن فلیٹس کی بینیفشل مالک ہیں،فیصلہ
یہ تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ لندن فلیٹ سے کیپٹن صفدر کا کوئی تعلق نہیں،فیصلہ
یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کیپٹن صفدر کا فلیٹس سے تعلق کا مواد موجود نہیں، فیصلہ
6 ماہ میں ٹرائل کی ہدایت ٹرائل کورٹ کو متاثر نہیں، جلد مکمل کرنے کیلئے ہے،فیصلہ
آرٹیکل 187 نیب کو سپلیمنٹری ریفرنس فائل کرنے کی ہدایت کا اختیار دیتا ہے،تفصیلی فیصلہ
ادارے اپنا کام نہ کریں تو سپریم کورٹ ہدایت جاری کر سکتی ہے،تفصیلی فیصلہ
ٹرائل کورٹ سپریم کورٹ کی آبزرویشنز کی پابند نہیں ہے،تفصیلی فیصلہ
نیب، آئی بی،اسٹیٹ بینک، نیشنل بینک میں اعلی ترین شخصیت کے حواری بیٹھے ہیں،تفصیلی فیصلہ
عدالت نہیں چاہتی کہ معاملہ کسی کے حواریوں کے پاس جائے،تفصیلی فیصلہ
بیان حلفی میں جھوٹ، بددیانتی ہے،تفصیلی فیصلہ
ساڑھے 6 سال کی تنخواہ قابل وصول اثاثہ ہے جسے ظاہر نہیں کیا گیا،تفصیلی فیصلہ
تنخواہ ملازمت کے معاہدے کا حصہ ہے لہذا اس کا اثاثہ ہونا ثابت ہے،تفصیلی فیصلہ
نوازشریف 1980 سے کاروبار اور سیاست کا حصہ ہیں، تفصیلی فیصلہ
نوازشریف کو اکائونٹنٹ کی بنیادی باتوں کا علم نہ ہونا سمجھ سے بالاتر ہے،تفصیلی فیصلہ
نوازشریف کے وکیل نے اثاثے ظاہر نہ کرنے کو غیر ارادی یا حادثاتی قرار نہیں دیا،تفصیلی فیصلہ
نوازشریف کو دفاع کا بھرپور موقع دیا گیا،تفصیلی فیصلہ
اقامے پر نواز شریف کے وکیل کا مؤقف دو دن تک سنا گیا،تفصیلی فیصلہ
نوازشریف کی نااہلی کے معاملے کا جائزہ انتہائی محتاط ہو کر لیا گیا،تفصیلی فیصلہ
اپیل کا حق نہیں ہوگا اس بات کو بھی مدنظر رکھا گیا،تفصیلی فیصلہ
سپریم کورٹ کے فیصلے میں شاعری کا بھی تڑکا
ادھر ادھر کی بات نہ کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا
مجھے راہزنوں سے گلہ نہیں تیری رہبری کا سوال ہے
اقامہ کے ذریعے سامنے آنے والے اثاثے پر آنکھیں بند نہیں کر سکتے،تفصیلی فیصلہ
نوازشریف کو صرف اس لئے نہیں چھوڑ سکتے تھے کہ وہ وزیراعظم ہیں،تفصیلی فیصلہ
اقامہ کے ذریعے سامنے آنے والے اثاثے پر آنکھیں بند نہیں کر سکتے،تفصیلی فیصلہ
نوازشریف کو صرف اس لئے نہیں چھوڑ سکتے تھے کہ وہ وزیراعظم ہیں،تفصیلی فیصلہ
نواز شریف نے تنخواہ سے دستبرداری کا کوئی ثبوت نہیں دیا،تفصیلی فیصلہ
تنخواہ سے دستبرداری کا زبانی اعلان اس کے اثاثہ ہونے کا اعتراف ہے،فیصلہ
غیر تسلیم شدہ اور متنازعہ امور فیصلے کیلئے ٹرائل کورٹ کو بھجوائے،فیصلہ
اقامہ کی بنیاد پر حاصل شدہ اثاثے سے آنکھیں بند نہیں کر سکتے، تفصیلی فیصلہ
مایوسی ہوئی کہ نواز شریف نے دوران سماعت سچ نہیں بولا،تفصیلی فیصلہ
نواز شریف نے پارلیمنٹ اور اس کے باہر بیٹھے لوگوں کو بے وقوف بنایا،تفصیلی فیصلہ
انہوں نے عدالت کو بھی بے وقوف بنانے کی کوشش کی،تفصیلی فیصلہ
تمام لوگوں کو ہر وقت بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا، تفصیلی فیصلہ
اگر قسمت نے انہیں حکمران بنایا تو ان کا کردار بے داغ ہونا چاہئے،تفصیلی فیصلہ
قیادت کی قبا کی آڑ میں کی گئی خفیہ سرگرمیاں پکڑے جانے پر استعفی زیادہ باعزت راستہ ہے،فیصلہ
ثابت شدہ اثاثے کو جھٹلانا وزیراعظم کے منصب کے شایان شان نہیں،تفصیلی فیصلہ
جان بوجھ کراثاثے چھپانےکو محض غلطی سمجھ کرنظراندازنہیں کیا جاسکتا،تفصیلی فیصلہ
دانستہ غلط بیانی کرنے والاکسی رعایت یا نرمی کا مستحق نہیں،تفصیلی فیصلہ
انتخابی امیدواروں سے رعایت نے افراداور نظام کو کرپٹ کردیا ہے،تفصیلی فیصلہ
عدالت نےکسی مقدمات میں تسلیم شدہ حقائق پر نااہلی کیخلاف اپیل کا حق تسلیم نہیں کیا
دہائیوں سے کاروباراورسیاست میں سرگرم شخص قانونی تقاضوں سےبے خبرنہیں ہوسکتا
ضمنی ریفرنس دائرکرنے کا حکم قانون کے عین مطابق ہے،تفصیلی فیصلہ
6ماہ میں فیصلےکی قدغن ٹرائل کورٹ کو لاپرواہی سے روکنےکیلئے عائد کی،تفصیلی فیصلہ
184تین کے تحت سماعت میں صرف درخواستوں تک محدود نہیں رہ سکتے،تفصیلی فیصلہ
جے آئی ٹی کوایف زیڈای کی فنڈنگ جانچنےکاحکم جسٹس اعجازالاحسن نےابتدائی فیصلےمیں دیا
ایف زیڈای کا معاملہ اچانک سامنے نہیں آیا،تفصیلی فیصلہنوازشریف کی پاناما فیصلے کیخلاف درخواستوں کا تفصیلی فیصلہ جاری
23 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس اعجاز افضل خان نے تحریر کیا
فیصلے میں جسٹس آصف سعید کھوسہ کا اضافی نوٹ بھی شامل
میرے انفرادی فیصلے کے خلاف کوئی دلائل نہیں دیئے گئے،جسٹس کھوسہ
پاناما فیصلے میں میری آبزرویشن پر کوئی سوال بھی نہیں اٹھایا گیا،اضافی نوٹ
بینچ کے ارکان کو فیصلے پر نظرثانی کیلئے قائل نہیں کیا جا سکا،جسٹس کھوسہ
وکلاء عدالتی فیصلے میں غلطیوں کی نشاندہی نہیں کر سکے،تفصیلی فیصلہ
فیصلے میں تبدیلی کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی، سپریم کورٹ
نگران جج کا تقرر ٹرائل پر اثر انداز نہیں ہوگا، تفصیلی فیصلہ
نگران جج کا تقرر ٹرائل کو شفاف بنانا تھا،تفصیلی فیصلہ
ٹرائل کورٹ آزادی سے شواہد کی روشنی میں فیصلہ کرے،سپریم کورٹ
ٹرائل کورٹ کسی آبزرویشن سے متاثر ہوئے بغیر فیصلہ کرے،تفصیلی فیصلہ
شواہد کمزور ہوں تو ٹرائل کورٹ مسترد کر سکتی ہے،تفصیلی فیصلہ
جسٹس اعجاز الاحسن نے اپنے فیصلے میں ایف زیڈ ای کی تحقیقات کا کہا،تفصیلی فیصلہ
تحقیقاتی نوعیت کی سماعت درخواست گزاروں کیلئے حیران کن نہیں تھی،تفصیلی فیصلہ
نواز شریف کی نااہلی تسلیم شدہ حقائق پر کی گئی،تفصیلی فیصلہ
نواز شریف نے جان بوجھ کر اثاثے چھپانے کے مرتکب قرار پائے،تفصیلی فیصلہ
اثاثے چھپانے کو غلطی تسلیم نہیں کیا جا سکتا،تفصیلی فیصلہ
نواز شریف کی نااہلی سے متعلق حقائق غیر منتازعہ تھے،فیصلہ
یہ نہیں کہا جا سکتا ,,کہ فیصلے سے نواز شریف کو حیران کر دیا گیا، فیصلہ
مریم نواز بادی النظر میں لندن فلیٹس کی بینیفشل مالک ہیں،فیصلہ
یہ تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ لندن فلیٹ سے کیپٹن صفدر کا کوئی تعلق نہیں،فیصلہ
یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کیپٹن صفدر کا فلیٹس سے تعلق کا مواد موجود نہیں، فیصلہ
6 ماہ میں ٹرائل کی ہدایت ٹرائل کورٹ کو متاثر نہیں، جلد مکمل کرنے کیلئے ہے،فیصلہ
آرٹیکل 187 نیب کو سپلیمنٹری ریفرنس فائل کرنے کی ہدایت کا اختیار دیتا ہے،تفصیلی فیصلہ
ادارے اپنا کام نہ کریں تو سپریم کورٹ ہدایت جاری کر سکتی ہے،تفصیلی فیصلہ
ٹرائل کورٹ سپریم کورٹ کی آبزرویشنز کی پابند نہیں ہے،تفصیلی فیصلہ
نیب، آئی بی،اسٹیٹ بینک، نیشنل بینک میں اعلی ترین شخصیت کے حواری بیٹھے ہیں،تفصیلی فیصلہ
عدالت نہیں چاہتی کہ معاملہ کسی کے حواریوں کے پاس جائے،تفصیلی فیصلہ
بیان حلفی میں جھوٹ، بددیانتی ہے،تفصیلی فیصلہ
ساڑھے 6 سال کی تنخواہ قابل وصول اثاثہ ہے جسے ظاہر نہیں کیا گیا،تفصیلی فیصلہ
تنخواہ ملازمت کے معاہدے کا حصہ ہے لہذا اس کا اثاثہ ہونا ثابت ہے،تفصیلی فیصلہ
نوازشریف 1980 سے کاروبار اور سیاست کا حصہ ہیں، تفصیلی فیصلہ
نوازشریف کو اکائونٹنٹ کی بنیادی باتوں کا علم نہ ہونا سمجھ سے بالاتر ہے،تفصیلی فیصلہ
نوازشریف کے وکیل نے اثاثے ظاہر نہ کرنے کو غیر ارادی یا حادثاتی قرار نہیں دیا،تفصیلی فیصلہ
نوازشریف کو دفاع کا بھرپور موقع دیا گیا،تفصیلی فیصلہ
اقامے پر نواز شریف کے وکیل کا مؤقف دو دن تک سنا گیا،تفصیلی فیصلہ
نوازشریف کی نااہلی کے معاملے کا جائزہ انتہائی محتاط ہو کر لیا گیا،تفصیلی فیصلہ
اپیل کا حق نہیں ہوگا اس بات کو بھی مدنظر رکھا گیا،تفصیلی فیصلہ
سپریم کورٹ کے فیصلے میں شاعری کا بھی تڑکا
ادھر ادھر کی بات نہ کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا
جھے راہزنوں سے گلہ نہیں تیری رہبری کا سوال ہے
اقامہ کے ذریعے سامنے آنے والے اثاثے پر آنکھیں بند نہیں کر سکتے،تفصیلی فیصلہ
نوازشریف کو صرف اس لئے نہیں چھوڑ سکتے تھے کہ وہ وزیراعظم ہیں،تفصیلی فیصلہ
اقامہ کے ذریعے سامنے آنے والے اثاثے پر آنکھیں بند نہیں کر سکتے،تفصیلی فیصلہ
نوازشریف کو صرف اس لئے نہیں چھوڑ سکتے تھے کہ وہ وزیراعظم ہیں،تفصیلی فیصلہ
نواز شریف نے تنخواہ سے دستبرداری کا کوئی ثبوت نہیں دیا،تفصیلی فیصلہ
تنخواہ سے دستبرداری کا زبانی اعلان اس کے اثاثہ ہونے کا اعتراف ہے،فیصلہ
غیر تسلیم شدہ اور متنازعہ امور فیصلے کیلئے ٹرائل کورٹ کو بھجوائے،فیصلہ
اقامہ کی بنیاد پر حاصل شدہ اثاثے سے آنکھیں بند نہیں کر سکتے، تفصیلی فیصلہ
مایوسی ہوئی کہ نواز شریف نے دوران سماعت سچ نہیں بولا،تفصیلی فیصلہ
نواز شریف نے پارلیمنٹ اور اس کے باہر بیٹھے لوگوں کو بے وقوف بنایا،تفصیلی فیصلہ
انہوں نے عدالت کو بھی بے وقوف بنانے کی کوشش کی،تفصیلی فیصلہ
تمام لوگوں کو ہر وقت بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا، تفصیلی فیصلہ
اگر قسمت نے انہیں حکمران بنایا تو ان کا کردار بے داغ ہونا چاہئے،تفصیلی فیصلہ
قیادت کی قبا کی آڑ میں کی گئی خفیہ سرگرمیاں پکڑے جانے پر استعفی زیادہ باعزت راستہ ہے،فیصلہ
ثابت شدہ اثاثے کو جھٹلانا وزیراعظم کے منصب کے شایان شان نہیں،تفصیلی فیصلہ
جان بوجھ کراثاثے چھپانےکو محض غلطی سمجھ کرنظراندازنہیں کیا جاسکتا،تفصیلی فیصلہ
دانستہ غلط بیانی کرنے والاکسی رعایت یا نرمی کا مستحق نہیں،تفصیلی فیصلہ
انتخابی امیدواروں سے رعایت نے افراداور نظام کو کرپٹ کردیا ہے،تفصیلی فیصلہ
عدالت نےکسی مقدمات میں تسلیم شدہ حقائق پر نااہلی کیخلاف اپیل کا حق تسلیم نہیں کیا
دہائیوں سے کاروباراورسیاست میں سرگرم شخص قانونی تقاضوں سےبے خبرنہیں ہوسکتا
ضمنی ریفرنس دائرکرنے کا حکم قانون کے عین مطابق ہے،تفصیلی فیصلہ
6ماہ میں فیصلےکی قدغن ٹرائل کورٹ کو لاپرواہی سے روکنےکیلئے عائد کی،تفصیلی فیصلہ
184تین کے تحت سماعت میں صرف درخواستوں تک محدود نہیں رہ سکتے،تفصیلی فیصلہ
جے آئی ٹی کوایف زیڈای کی فنڈنگ جانچنےکاحکم جسٹس اعجازالاحسن نےابتدائی فیصلےمیں دیا
ایف زیڈای کا معاملہ اچانک سامنے نہیں آیا،تفصیلی فیصلہنوازشریف کی پاناما فیصلے کیخلاف درخواستوں کا تفصیلی فیصلہ جاری
23 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس اعجاز افضل خان نے تحریر کیا
فیصلے میں جسٹس آصف سعید کھوسہ کا اضافی نوٹ بھی شامل
میرے انفرادی فیصلے کے خلاف کوئی دلائل نہیں دیئے گئے،جسٹس کھوسہ
پاناما فیصلے میں میری آبزرویشن پر کوئی سوال بھی نہیں اٹھایا گیا،اضافی نوٹ
بینچ کے ارکان کو فیصلے پر نظرثانی کیلئے قائل نہیں کیا جا سکا،جسٹس کھوسہ
وکلاء عدالتی فیصلے میں غلطیوں کی نشاندہی نہیں کر سکے،تفصیلی فیصلہ
فیصلے میں تبدیلی کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی، سپریم کورٹ
نگران جج کا تقرر ٹرائل پر اثر انداز نہیں ہوگا، تفصیلی فیصلہ
نگران جج کا تقرر ٹرائل کو شفاف بنانا تھا،تفصیلی فیصلہ
ٹرائل کورٹ آزادی سے شواہد کی روشنی میں فیصلہ کرے،سپریم کورٹ
ٹرائل کورٹ کسی آبزرویشن سے متاثر ہوئے بغیر فیصلہ کرے،تفصیلی فیصلہ
شواہد کمزور ہوں تو ٹرائل کورٹ مسترد کر سکتی ہے،تفصیلی فیصلہ
جسٹس اعجاز الاحسن نے اپنے فیصلے میں ایف زیڈ ای کی تحقیقات کا کہا،تفصیلی فیصلہ
تحقیقاتی نوعیت کی سماعت درخواست گزاروں کیلئے حیران کن نہیں تھی،تفصیلی فیصلہ
نواز شریف کی نااہلی تسلیم شدہ حقائق پر کی گئی،تفصیلی فیصلہ
نواز شریف نے جان بوجھ کر اثاثے چھپانے کے مرتکب قرار پائے،تفصیلی فیصلہ
اثاثے چھپانے کو غلطی تسلیم نہیں کیا جا سکتا،تفصیلی فیصلہ
نواز شریف کی نااہلی سے متعلق حقائق غیر منتازعہ تھے،فیصلہ
یہ نہیں کہا جا سکتا ,,کہ فیصلے سے نواز شریف کو حیران کر دیا گیا، فیصلہ
مریم نواز بادی النظر میں لندن فلیٹس کی بینیفشل مالک ہیں،فیصلہ
یہ تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ لندن فلیٹ سے کیپٹن صفدر کا کوئی تعلق نہیں،فیصلہ
یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کیپٹن صفدر کا فلیٹس سے تعلق کا مواد موجود نہیں، فیصلہ
6 ماہ میں ٹرائل کی ہدایت ٹرائل کورٹ کو متاثر نہیں، جلد مکمل کرنے کیلئے ہے،فیصلہ
آرٹیکل 187 نیب کو سپلیمنٹری ریفرنس فائل کرنے کی ہدایت کا اختیار دیتا ہے،تفصیلی فیصلہ
ادارے اپنا کام نہ کریں تو سپریم کورٹ ہدایت جاری کر سکتی ہے،تفصیلی فیصلہ
ٹرائل کورٹ سپریم کورٹ کی آبزرویشنز کی پابند نہیں ہے،تفصیلی فیصلہ
نیب، آئی بی،اسٹیٹ بینک، نیشنل بینک میں اعلی ترین شخصیت کے حواری بیٹھے ہیں،تفصیلی فیصلہ
عدالت نہیں چاہتی کہ معاملہ کسی کے حواریوں کے پاس جائے،تفصیلی فیصلہ
بیان حلفی میں جھوٹ، بددیانتی ہے،تفصیلی فیصلہ
ساڑھے 6 سال کی تنخواہ قابل وصول اثاثہ ہے جسے ظاہر نہیں کیا گیا،تفصیلی فیصلہ
تنخواہ ملازمت کے معاہدے کا حصہ ہے لہذا اس کا اثاثہ ہونا ثابت ہے،تفصیلی فیصلہ
نوازشریف 1980 سے کاروبار اور سیاست کا حصہ ہیں، تفصیلی فیصلہ
نوازشریف کو اکائونٹنٹ کی بنیادی باتوں کا علم نہ ہونا سمجھ سے بالاتر ہے،تفصیلی فیصلہ
نوازشریف کے وکیل نے اثاثے ظاہر نہ کرنے کو غیر ارادی یا حادثاتی قرار نہیں دیا،تفصیلی فیصلہ
نوازشریف کو دفاع کا بھرپور موقع دیا گیا،تفصیلی فیصلہ
اقامے پر نواز شریف کے وکیل کا مؤقف دو دن تک سنا گیا،تفصیلی فیصلہ
نوازشریف کی نااہلی کے معاملے کا جائزہ انتہائی محتاط ہو کر لیا گیا،تفصیلی فیصلہ
اپیل کا حق نہیں ہوگا اس بات کو بھی مدنظر رکھا گیا،تفصیلی فیصلہ
سپریم کورٹ کے فیصلے میں شاعری کا بھی تڑکا
ادھر ادھر کی بات نہ کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا
مجھے راہزنوں سے گلہ نہیں تیری رہبری کا سوال ہے
اقامہ کے ذریعے سامنے آنے والے اثاثے پر آنکھیں بند نہیں کر سکتے،تفصیلی فیصلہ
نوازشریف کو صرف اس لئے نہیں چھوڑ سکتے تھے کہ وہ وزیراعظم ہیں،تفصیلی فیصلہ
اقامہ کے ذریعے سامنے آنے والے اثاثے پر آنکھیں بند نہیں کر سکتے،تفصیلی فیصلہ
نوازشریف کو صرف اس لئے نہیں چھوڑ سکتے تھے کہ وہ وزیراعظم ہیں،تفصیلی فیصلہ
نواز شریف نے تنخواہ سے دستبرداری کا کوئی ثبوت نہیں دیا،تفصیلی فیصلہ
تنخواہ سے دستبرداری کا زبانی اعلان اس کے اثاثہ ہونے کا اعتراف ہے،فیصلہ
غیر تسلیم شدہ اور متنازعہ امور فیصلے کیلئے ٹرائل کورٹ کو بھجوائے،فیصلہ
اقامہ کی بنیاد پر حاصل شدہ اثاثے سے آنکھیں بند نہیں کر سکتے، تفصیلی فیصلہ
مایوسی ہوئی کہ نواز شریف نے دوران سماعت سچ نہیں بولا،تفصیلی فیصلہ
نواز شریف نے پارلیمنٹ اور اس کے باہر بیٹھے لوگوں کو بے وقوف بنایا،تفصیلی فیصلہ
انہوں نے عدالت کو بھی بے وقوف بنانے کی کوشش کی،تفصیلی فیصلہ
تمام لوگوں کو ہر وقت بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا، تفصیلی فیصلہ
اگر قسمت نے انہیں حکمران بنایا تو ان کا کردار بے داغ ہونا چاہئے،تفصیلی فیصلہ
قیادت کی قبا کی آڑ میں کی گئی خفیہ سرگرمیاں پکڑے جانے پر استعفی زیادہ باعزت راستہ ہے،فیصلہ
ثابت شدہ اثاثے کو جھٹلانا وزیراعظم کے منصب کے شایان شان نہیں،تفصیلی فیصلہ
جان بوجھ کراثاثے چھپانےکو محض غلطی سمجھ کرنظراندازنہیں کیا جاسکتا،تفصیلی فیصلہ
دانستہ غلط بیانی کرنے والاکسی رعایت یا نرمی کا مستحق نہیں،تفصیلی فیصلہ
انتخابی امیدواروں سے رعایت نے افراداور نظام کو کرپٹ کردیا ہے،تفصیلی فیصلہ
عدالت نےکسی مقدمات میں تسلیم شدہ حقائق پر نااہلی کیخلاف اپیل کا حق تسلیم نہیں کیا
دہائیوں سے کاروباراورسیاست میں سرگرم شخص قانونی تقاضوں سےبے خبرنہیں ہوسکتا
ضمنی ریفرنس دائرکرنے کا حکم قانون کے عین مطابق ہے،تفصیلی فیصلہ
6ماہ میں فیصلےکی قدغن ٹرائل کورٹ کو لاپرواہی سے روکنےکیلئے عائد کی،تفصیلی فیصلہ
184تین کے تحت سماعت میں صرف درخواستوں تک محدود نہیں رہ سکتے،تفصیلی فیصلہ
جے آئی ٹی کوایف زیڈای کی فنڈنگ جانچنےکاحکم جسٹس اعجازالاحسن نےابتدائی فیصلےمیں دیا
ایف زیڈای کا معاملہ اچانک سامنے نہیں آیا،تفصیلی فیصلہنوازشریف کی پاناما فیصلے کیخلاف درخواستوں کا تفصیلی فیصلہ جاری
23 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس اعجاز افضل خان نے تحریر کیا
فیصلے میں جسٹس آصف سعید کھوسہ کا اضافی نوٹ بھی شامل
میرے انفرادی فیصلے کے خلاف کوئی دلائل نہیں دیئے گئے،جسٹس کھوسہ
پاناما فیصلے میں میری آبزرویشن پر کوئی سوال بھی نہیں اٹھایا گیا،اضافی نوٹ
بینچ کے ارکان کو فیصلے پر نظرثانی کیلئے قائل نہیں کیا جا سکا،جسٹس کھوسہ
وکلاء عدالتی فیصلے میں غلطیوں کی نشاندہی نہیں کر سکے،تفصیلی فیصلہ
فیصلے میں تبدیلی کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی، سپریم کورٹ
نگران جج کا تقرر ٹرائل پر اثر انداز نہیں ہوگا، تفصیلی فیصلہ
نگران جج کا تقرر ٹرائل کو شفاف بنانا تھا،تفصیلی فیصلہ
ٹرائل کورٹ آزادی سے شواہد کی روشنی میں فیصلہ کرے،سپریم کورٹ
ٹرائل کورٹ کسی آبزرویشن سے متاثر ہوئے بغیر فیصلہ کرے،تفصیلی فیصلہ
شواہد کمزور ہوں تو ٹرائل کورٹ مسترد کر سکتی ہے،تفصیلی فیصلہ
جسٹس اعجاز الاحسن نے اپنے فیصلے میں ایف زیڈ ای کی تحقیقات کا کہا،تفصیلی فیصلہ
تحقیقاتی نوعیت کی سماعت درخواست گزاروں کیلئے حیران کن نہیں تھی،تفصیلی فیصلہ
نواز شریف کی نااہلی تسلیم شدہ حقائق پر کی گئی،تفصیلی فیصلہ
نواز شریف نے جان بوجھ کر اثاثے چھپانے کے مرتکب قرار پائے،تفصیلی فیصلہ
اثاثے چھپانے کو غلطی تسلیم نہیں کیا جا سکتا،تفصیلی فیصلہ
نواز شریف کی نااہلی سے متعلق حقائق غیر منتازعہ تھے،فیصلہ
یہ نہیں کہا جا سکتا ,,کہ فیصلے سے نواز شریف کو حیران کر دیا گیا، فیصلہ
مریم نواز بادی النظر میں لندن فلیٹس کی بینیفشل مالک ہیں،فیصلہ
یہ تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ لندن فلیٹ سے کیپٹن صفدر کا کوئی تعلق نہیں،فیصلہ
یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کیپٹن صفدر کا فلیٹس سے تعلق کا مواد موجود نہیں، فیصلہ
6 ماہ میں ٹرائل کی ہدایت ٹرائل کورٹ کو متاثر نہیں، جلد مکمل کرنے کیلئے ہے،فیصلہ
آرٹیکل 187 نیب کو سپلیمنٹری ریفرنس فائل کرنے کی ہدایت کا اختیار دیتا ہے،تفصیلی فیصلہ
ادارے اپنا کام نہ کریں تو سپریم کورٹ ہدایت جاری کر سکتی ہے،تفصیلی فیصلہ
ٹرائل کورٹ سپریم کورٹ کی آبزرویشنز کی پابند نہیں ہے،تفصیلی فیصلہ
نیب، آئی بی،اسٹیٹ بینک، نیشنل بینک میں اعلی ترین شخصیت کے حواری بیٹھے ہیں،تفصیلی فیصلہ
عدالت نہیں چاہتی کہ معاملہ کسی کے حواریوں کے پاس جائے،تفصیلی فیصلہ
بیان حلفی میں جھوٹ، بددیانتی ہے،تفصیلی فیصلہ
ساڑھے 6 سال کی تنخواہ قابل وصول اثاثہ ہے جسے ظاہر نہیں کیا گیا،تفصیلی فیصلہ
تنخواہ ملازمت کے معاہدے کا حصہ ہے لہذا اس کا اثاثہ ہونا ثابت ہے،تفصیلی فیصلہ
نوازشریف 1980 سے کاروبار اور سیاست کا حصہ ہیں، تفصیلی فیصلہ
نوازشریف کو اکائونٹنٹ کی بنیادی باتوں کا علم نہ ہونا سمجھ سے بالاتر ہے،تفصیلی فیصلہ
نوازشریف کے وکیل نے اثاثے ظاہر نہ کرنے کو غیر ارادی یا حادثاتی قرار نہیں دیا،تفصیلی فیصلہ
نوازشریف کو دفاع کا بھرپور موقع دیا گیا،تفصیلی فیصلہ
اقامے پر نواز شریف کے وکیل کا مؤقف دو دن تک سنا گیا،تفصیلی فیصلہ
نوازشریف کی نااہلی کے معاملے کا جائزہ انتہائی محتاط ہو کر لیا گیا،تفصیلی فیصلہ
اپیل کا حق نہیں ہوگا اس بات کو بھی مدنظر رکھا گیا،تفصیلی فیصلہ
سپریم کورٹ کے فیصلے میں شاعری کا بھی تڑکا
ادھر ادھر کی بات نہ کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا
مجھے راہزنوں سے گلہ نہیں تیری رہبری کا سوال ہے
اقامہ کے ذریعے سامنے آنے والے اثاثے پر آنکھیں بند نہیں کر سکتے،تفصیلی فیصلہ
نوازشریف کو صرف اس لئے نہیں چھوڑ سکتے تھے کہ وہ وزیراعظم ہیں،تفصیلی فیصلہ
اقامہ کے ذریعے سامنے آنے والے اثاثے پر آنکھیں بند نہیں کر سکتے،تفصیلی فیصلہ
نواز شریف نے تنخواہ سے دستبرداری کا کوئی ثبوت نہیں دیا،تفصیلی فیصلہ
تنخواہ سے دستبرداری کا زبانی اعلان اس کے اثاثہ ہونے کا اعتراف ہے،فیصلہ
غیر تسلیم شدہ اور متنازعہ امور فیصلے کیلئے ٹرائل کورٹ کو بھجوائے،فیصلہ
اقامہ کی بنیاد پر حاصل شدہ اثاثے سے آنکھیں بند نہیں کر سکتے، تفصیلی فیصلہ
مایوسی ہوئی کہ نواز شریف نے دوران سماعت سچ نہیں بولا،تفصیلی فیصلہ
نواز شریف نے پارلیمنٹ اور اس کے باہر بیٹھے لوگوں کو بے وقوف بنایا،تفصیلی فیصلہ
انہوں نے عدالت کو بھی بے وقوف بنانے کی کوشش کی،تفصیلی فیصلہ
تمام لوگوں کو ہر وقت بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا، تفصیلی فیصلہ
اگر قسمت نے انہیں حکمران بنایا تو ان کا کردار بے داغ ہونا چاہئے،تفصیلی فیصلہ
قیادت کی قبا کی آڑ میں کی گئی خفیہ سرگرمیاں پکڑے جانے پر استعفی زیادہ باعزت راستہ ہے،فیصلہ
ثابت شدہ اثاثے کو جھٹلانا وزیراعظم کے منصب کے شایان شان نہیں،تفصیلی فیصلہ
جان بوجھ کراثاثے چھپانےکو محض غلطی سمجھ کرنظراندازنہیں کیا جاسکتا،تفصیلی فیصلہ
دانستہ غلط بیانی کرنے والاکسی رعایت یا نرمی کا مستحق نہیں،تفصیلی فیصلہ
انتخابی امیدواروں سے رعایت نے افراداور نظام کو کرپٹ کردیا ہے،تفصیلی فیصلہ
عدالت نےکسی مقدمات میں تسلیم شدہ حقائق پر نااہلی کیخلاف اپیل کا حق تسلیم نہیں کیا
دہائیوں سے کاروباراورسیاست میں سرگرم شخص قانونی تقاضوں سےبے خبرنہیں ہوسکتا
ضمنی ریفرنس دائرکرنے کا حکم قانون کے عین مطابق ہے،تفصیلی فیصلہ
6ماہ میں فیصلےکی قدغن ٹرائل کورٹ کو لاپرواہی سے روکنےکیلئے عائد کی،تفصیلی فیصلہ
184تین کے تحت سماعت میں صرف درخواستوں تک محدود نہیں رہ سکتے،تفصیلی فیصلہ
جے آئی ٹی کوایف زیڈای کی فنڈنگ جانچنےکاحکم جسٹس اعجازالاحسن نےابتدائی فیصلےمیں دیا
ایف زیڈای کا معاملہ اچانک سامنے نہیں آیا،تفصیلی فیصلہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں