22

پاکستان پیپلز پارٹی ویمن ونگ پشاور کی رہنما نگہت اورکزئ کا ڈی آئی خان واقعے پر پریس کانفرنس

پاکستان پیپلز پارٹی خواتین ونگ کی رہنما نگہت اورکزئی نے ڈی آئی خان میں لڑکی کو برہنہ کرکے گلی کوچوں میں گمانے کے واقعے پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈی آئی خان میں خواتین کی عصمت محفوظ نہیں حکومتی عناصر اور قانون بنانے والے افراد ایسے واقعات کی سرپرستی کررہے ہیں ان کا کہنا تھا کہ ڈی آئی خان کی گلیوں میں خاتون کی قمیض اور شلوار اتاری جاتی ہیں اور قانون ٹس سے مس نہیں ہوتا۔ انہوں نے انسانی حقوق کیلئے کام کرنی والی تنظیموں کی سرزنش کرتے ہوئے کہا “ وہ منہ بولے این جی اوز کدھر ہیں جو خواتین کی حقوق پر اربوں روپے کا فنڈ لیتے ہیں کدھر ہیں ویمن کاکس کدھر ہے کے پی کمیشن فار سٹیٹس آف ویمن”
انہوں نے اپنے پریس کانفرنس میں کہا کہ ڈی پی او نے پہلے متاثرہ خاندان پر ایف آئی آر درج کیا بعد میں سوشل میڈیا کا پریشر پڑنے پر متعلقہ افراد کے خلاف آیف آیئ درج کیا گیا۔ انہوں نے اسرار کیا کہ ہمیں ان سات افراد کی گرفتاری نہیں بلکہ اس مرکزی کردار جسے علی امین گنڈاپور کی سرپرستی ہے حاصل ہے کی گرفتاری چاہیے
نگہت اورکزئی نے کہا کہ وہ اور ان کی جماعت اس بربریت کی مذمت کرتی ہے اور متاثرہ لڑکی کے گھر جاکر اسے عزت کی چادر پہنا کر اس کے حق میں دھرنا دینگے۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمان سے مخاطب ہوکر کہا کہ آپ کہاں تھیں جب آپ کے ڈیرہ میں ایک لڑکی کی عصمت لوٹی جارہی تھی۔ انہوں نے جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کو بھی مخاطب کرکے کہا “سراج الحق صاحب آپ کہاں ہیں کیا اسلام یہی درس دیتا ہے، کیوں آُپ لوگ اس طرح خاموش ہیں اس رونگٹے کھڑی کرنے والے واقعے پر”
ان کا کہنا تھا کہ جب تک عمران خان متاثرہ لڑکی کے گھر نہیں آتے اور اس لڑکی کو عزت کی چادر نہیں پہناتے ہمارا دھرنا جاری رہے گا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں