134

فاٹا میں انسداد پولیو اور وٹامن اے مہم کل سے شروع

پشاور: فاٹا میں تین روزہ انسداد پولیو مہم بروز پیر 20 نومبر، 2017 سے ایجنسی سرجنز، پولیٹکل انتظامیہ، کمشنرز اور مسلح افواج کی نگرانی اور سرپرستی میں شروع کی جا رہی ہے ۔

فاٹا میں تین روزہ انسداد پولیو مہم 20 نومبر2017 سے 22 نومبر2017 تک جاری رہے گی، جس کے بعد رہ جانے والے بچوں کو پولیو قطرے پلوانے اور سرویلنس کا کام جاری رکھا جائے گا۔

مہم کے دوران 5 سال سے کم عمر کے کل 1040396 بچوں کو4384 ٹیموں کی مدد سے پولیو قطرے پلوائے جائیں گے، جسمیں 3990 موبائل ٹیمیں ، 293 فکسڈ ٹیمیں اور101 ٹرانزٹ ٹیمیں شامل ہیں۔

وٹامن اے کی کمی پوری کرنے کے لیے مہم کے دوران بچوں کو وٹامن اے کیپسول بھی دیے جائیں گے۔ وٹامن اے کیپسول فاٹا بھر میں چھ مہینے سے 5 سال تک کی عمر کے 936356بچوں کو پولیوٹیموں کی مدد سے دیے جائیں گے۔

کوآرڈینیٹر ایمرجنسی آپریشن سینٹر(ای او سی) فاٹا محمد زبیر خان نے فاٹا ٹیم کو ہدایات دیں کہ انسداد پولیو مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر کے ہر بچے، خصوصاً رہ جانے والے اور دوران صفر بچوں کو پولیو قطرے پلوانے پر توجہ مرکوز کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ مہم کے معیار میں بہتری کے لئے تعاون، مہم کی بہتر نگرانی اور کارکردگی کی بنیاد پر جواب دہی کا عمل فاٹا کے صفرپولیوکیس کی حیثیت برقراررکھنے کے لئے بہت اہم ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیو حساس علاقوں پر توجہ دی جائے اور فاٹا کے ہر کونے اور ہربچے تک رسائی کو یقینی بنایا جائے ۔

اعداد و شمار کے مطابق فاٹا واحد علاقہ ہے جس نے 2016-2017کے دوران کم از کم تین انسداد پولیو مہموں میں نیشنل ایمرجنسی ایکشن پلان کےاہداف کے حصول میں 95 فیصد تک کامیابی حاصل کی (فروری، اپریل اور مئی 2017 کے لئے کوریج (بچوں تک رسائی) بالترتیب 96 فیصد، 95 فیصد اور 97 فیصد رہی) ۔

فاٹا میں صفر پولیو کیس کی حیثیت کو برقرار کیے ایک سال مکمل ہو چکا ہے۔ فاٹا میں آخری پولیوکیس پچھلے سال 27 جولائی، 2016 کو سامنے آیا تھا، جس کے بعد سے اب تک کوئی پولیو کیس سامنے نہیں آیا۔ فاٹا میں پچھلے سال(2016) میں صرف دو پولیو کیس جنوبی وزیرستان ایجنسی سے رپورٹ ہوئے تھے، جبکہ اس سال (2017) میں کوئی پولیو کیس رپورٹ نہیں ہوا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں