9

سی پیک قومی ترقی کیلئے ناگزیر ہے : پرویز خٹک

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ سی پیک قومی یکجہتی کا منصوبہ ہے اور قومی ترقی کیلئے ناگزیر ہے ۔صوبائی حکومت سی پیک کے منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے بڑی سنجیدگی سے اپنا کردار ادا کر رہی ہے اور اس منصوبے کو دیرپا اور زیادہ سے زیادہ نفع بخش بنانے کیلئے متعدد تجاویز پیش کی ہیں۔حطار ایک کامیاب صنعتی زون ہے جو سی پیک کے روٹ پر واقع ہے اور صوبائی حکومت نے خود اس زون پربہت زیادہ سرمایہ کاری کی ہے۔ رشکئی سب سے زیادہ اہم اور فیزیبل زون ہے۔ رشکئی انڈسٹریل ایریا کے لیے بیس ہزار کنال زمین خرید چکے ہیں اور اس کو سی پیک کا حصہ دیکھنا چاہتے ہیں اور یہی تجویزہم نے سی پیک کے فورم پر دی ہے جبکہ ہماری تیسری ترجیح ڈی آئی خان میں صنعتی زون ہے۔یہ ہماری ترجیحات ہیں جن کو ہم سی پیک میں شامل کرنے کے خواہاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ سی پیک کی اہمیت ہمارے لئے مسلمہ ہے یہی وجہ ہے کہ میں نے جے سی سی کے چھٹے اور ساتویں اجلاس میں شرکت کی تاکہ صوبے کے حقوق کی نمائندگی کے ساتھ ساتھ قومی ترقی کے حامل اس منصوبے کی کامیابی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے جے سی سی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔پرویز خٹک نے واضح کیا کہ انہوں نے اب ہزارہ، پشاور، نوشہرہ، مردان اور ڈی آئی خان کو سماجی منصوبوں میں شامل کرنے اورخیبرپختونخوا میں بجلی کے 1800 میگاواٹ کے نئے منصوبے سی پیک میں شامل کرنے کی تجویز دی ہے۔گریٹر پشاور ٹرین متعدد اضلاع کو منسلک کرتا ہے، پشاور اور طورخم کو منسلک کرنے سمیت پشاور ڈیرہ اسماعیل خان ریلوے ٹریک کو بھی سی پیک میں شامل کرنے کی تجویز دی ہے۔ اسی طرح گلگت شندور چترال روڈ کو بھی سی پیک میں شامل کرنے کیلئے تجویز کیا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ سکھی کناری 1900 میگا واٹ کے منصوبے پر پہلے ہی کام چل رہا ہے جبکہ مزید 3500 میگا واٹ کے منصوبے بھی سی پیک میں شامل ہو رہے ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ چشمہ رائٹ بینک لفٹ سکیم کو بھی سی پیک میں شامل کرنے کی تجویز دی ہے۔سی پیک کے تحت ہزارہ موٹروے بڑی اہمیت کا حامل ہے ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ وہ سی پیک کے تناظر میں اپنے منصوبوں پر بھی کام کر رہے ہیں اور بڑی پیمانے پر صوبہ اپنی سرمایہ کاری کررہا ہے۔ صوبائی حکومت کے اپنے وسائل سے تعمیر کیا جانے والا سوات موٹروے منصوبہ مکمل ہونے کو ہے۔بس ریپڈٹرانزٹ منصوبے پر بھی تیز رفتاری سے کام جاری ہے ۔پورے صوبے کو باہم مربوط کرنے اور ترقی اور خوشحالی کا ماسٹر پلان تشکیل دیا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ فاٹا کو بھی ترقی کے اس دہارے میں لانے کیلئے اُس کا جائز حصہ ملنا چاہیئے تاکہ سی پیک کے ثمرات سے وہاں کے عوام بھی برابر مستفید ہو سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں