25

حکومت جو بھی فیصلہ کریگی فوج اس پر عمل کریگی: میجر جنرل آصف غفور

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ دھرنے کے بارے میں حکومت جو بھی فیصلہ کرے گی اس پر عمل کریں گے، تفصیلات کے مطابق ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں معروف صحافی جاوید چودھری سے بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ افواج پاکستان ریاست کا ادارہ ہے اور دھرنے کے سلسلے میں حکومت جو بھی فیصلہ کرے گی اس پر عمل کیا جائے گا۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ حکومت وقت نے جب بھی فوج کو بلایا فوج نے اپنی ذمہ
داری ادا کی، انہوں نے کہا کہ معاملات افہام و تفہیم سے حل ہوجائیں تو ٹھیک ہے لیکن دھرنے کے سلسلے میں حکومت جو بھی فیصلہ کرے گی اس پر عمل کریں گے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ شہداء ہمارے خاندان کا حصہ ہوتے ہیں ہم ان کے جنازوں میں شرکت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ آسان نہیں ہے، پورے ملک خفیہ اداروں کی اطلاعات پر دہشت گردی کے خلاف آپریشن ہو رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ کوئی بھی فوج قوم کی حمایت کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتی، افغانستان کی حالت سب کے سامنے ہے، افغانستان کی صورتحال وہاں کی حکومت کے کنٹرول میں نہیں ہے، میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ افغانستان کی سرحد کے گرد باڑ لگائی جا رہی ہے، جب تک دوسری طرف سے اقدامات نہیں ہوتے حالات بہتر نہیں ہوں گے۔ میجر جنرل آصف غفور نے بھارتی جاسوس کلبھوشن کو اس کی والدہ سے ملنے سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ دفتر خارجہ نے اس سلسلے میں بیان دے دیا ہے کہ حکومت اگر انسانیت کے ناتے ملنے کی اجازت دے تو کیس پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ کلبھوشن کے ساتھ جو ہونا ہے وہ ہو گا اس لیے اس کا اپنی والدہ سے ملنے میں کوئی حرج نہیں ہے، سیاسی صورتحال پر انہوں نے کہا کہ سیاسی عمل چلتا رہنا چاہیے اور سیاسی قیادت اور پارلیمنٹ جیسے کرتے ہیں انہیں کرنا چاہیے کیونکہ سیاست کا اپنا دائرہ کار ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں