6

خدشہ ہے کہ قوم 2018 کے الیکشن کا منظر نہ دیکھ سکے: مولانہ فضل الرحمان

مردان: جے یو آئی ( ف ) کے سربراہ مولانہ فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت داخلی اور خارجی مشکلات میں گھرا ہوا ہے اورہم اگر من حیث القوم عدم یکجہتی کا شکار ہوگئے تو خدشہ ہے کہ قوم 2018 کے الیکشن کا منظر نہ دیکھ سکے لہذا ہمیں قومی یکجہتی کی طرف گامزن ہونا ہوگا اور مجھے خوشی ہوگی کہ پاکستان کی مقتدر قوتیں اور سیاسی قیادت آپس میں مل بیٹھ کر بحران سے نکلنے کا راستہ ڈھونڈ نکالیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے گوجر گڑھی میں جے یو آئی کی خاتون ایم این اے نعیمہ کشور کی رہائش گاہ پر جمعیت کے زیر اہتمام منعقدہ علماء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس سے جے یو آئی خیبرپختونخوا کے امیر مولانہ گل نصیب خان جنرل سیکریٹری مولانہ شجاع الملک جے یو پی کے مرکزی نائب صدر علامہ فضل جمیل رضوی جماعت اسلامی ضلع مردان کے امیر مولانہ ڈاکٹر عطاء الرحمان جے یو آئی کے ضلعی امیر مولانہ محمد قاسم مولانہ امانت شاہ مولانہ قیصرالدین مولانہ محمد عاقل قاری عمر علی حافظ اختر علی اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا مولانہ فضل الرحمان نے کہا کہ علمائے کرام انبیا کے وارث ہیں اور برصغیر کی تاریخ گواہ ہے کہ تحریک ازادی کی قیادت بھی علمائے کرام نے کی تھی ختم نبوت کے مسلے پر لڑائی جھگڑوں میں ہزاروں لوگ شہید ہوئے تھے لیکن جب 1970 کے انخابات میں علمائے کرام پارلیمنٹ پہنچے تو اس معاملے کو پرامن طور پر حل کرکے قادیانیوں کو اسلام سے خارج قرار دیا گیا انہوں نے کہا کہ آج قران وسنت سے انحراف کو روشن خیالی کا نام دیا گیا ہے تو یہ ذمہ داری بھی علماء پر عائد ہوتی ہے کہ وہ قوم کی اسلامی خطوط پر رہنمائی کریں انہوں نے کہا کہ دوسروں پر فساد کا الزام لگانے والا امریکہ خود فساد کی جڑ ہے اور افانستان میں روس کی شکست کے بعد امریکہ اور عالمی قوتیں اب اسلام کے خلاف صف آراء ہوگئیں ہیں مولانہ فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارے اداروں نے بھی قربانیاں دیں کسی انفرادی حکمت عملی سے اختلاف ہوسکتا ہے ہم اس اختلاف کو برداشت کرکے ملک میں امن چاہینگے ماضی میں ہماری فوج نے سپلائی لائن کاٹ دی تھی لیکن نظریاتی طور پر ہم نے سپلائی لائن کاٹی تھی اگر علماء اور مدارس کے طلبا ایک پیج پر نہ ہوتے تو اکیلے فوج کو کامیاب نہ ہوتی اس لئے تو سارا غصہ ہم پر نکالا جارہا ہے مجھ پر تین خودکش حملے ہوئے میرے گھر پر تین راکٹ فائر کئے گئے ہمارے علماء نے قربانیاں دیں لیکن ان قربانیوں کی کوئی قدر نہیں کی گئی اور آج بھی ہمارے علماء اور دینی مدارس نشانے پر ہیں انہوں نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل کو بحال کرنے کی کوشش ہو رہی ہے اور اس پر اتفاق بھی ہوگیا ہے اور علمائے کرام آپس میں متحد ہوکر اسلام دشمن قوتوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنائینگے ان کا کہنا تھا کہ فاٹا کے مسلے کو افہام وتفہیم اور مشاورت کے ذریعے حل کیا جائے اور وہاں کے عوام پر زبردستی کوئی بھی فیصلہ مسلط کرنے سے گریز کیا جائے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں