222

پاکستان کونسل اف ورلڈ ریلیجنز نے بابا گرو نانک کے جنم دن کے حوالے سے تقریب منعقد کی

پشاور: جہاں گزشتہ دو دہائیوں سے دہشتگردی اور انتہا پسندی نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں وہاں پر بابا گرو نانک کے جنم دن کے حوالے سے پاکستان کونسل اف ورلڈ ریلیجنز نے ایک تقریب منعقد کی۔ جس میں صوبہ بھر سے آئے ہوئے سکھ کمیونٹی کے علاوہ ہندو، مسلمان، بہائی اور عیسائی کمیونٹی کی بھی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔
اس موقع پر پاکستان کونسل اف ورلڈ ریلیجنز کے بانی اور پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کے علمبردار ہارون سرب دیال نے کہا کہ ہمیں تمام مذہبی گروہوں کے درمیان ہم اہنگی پیدا کرنی چاہئے، جس کے لئے ایک ساتھ بیٹھنا اور ایک دوسرے کے دکھ دود میں شریک ہونا انتہائی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسی مقصد کے حصول کے لئے آج ہم سب مل کر گرو نانک کا جنم دن منارہے ہیں۔
تقریب میں بابا گرو نانک کی سالگرہ کا کیک کاٹا گیا اور دعائیں مانگی گئی، اس موقع پر ایک خاکہ بھی پیش کیا گیا جس میں سکھ مذہب کے تاریخی پہلوں کو اُجاگر کیا گیا۔ صوبائی یوتھ اسمبلی کی وائس پریزڈنٹ صائمہ عمر نے کہا کہ تمام مذاہب امن و محبت کا درس دیتے ہیں اسلیئے تمام مذاہب کا حتام کرنا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ اس پروگرام میں شمولیت کا مقصد یہ ہے کہ جو پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی ہے کہ مذاہب کو آپس میں تقسیم کرکے ان کے اندر انتشار پیدا کرنا اور ان لوگوں کو آپس میں لڑوانا ہے تو میں پرونشل یوتھ اسمبلی اور اسلام مذہب کی طرف سے پوری دنیا میں یہ پیغام دینا چاہتی ہوں کہ ہم سب پاکستانی ہیں اور اپس میں متحد ہیں۔
اس موقع پر سیکیورٹی کے بھی سخت انتظامات کئے گئے تھے، بابا گورپال سنگھ نے کہا کہ اس سرزمین پر سکھ، ہندو اور مسلمان صدیوں سےہنسی خوشی رہ رہے تھے۔ مگر اب کچھ انتہا پسند عناصر ان کو پر سکون نہیں دیکھ سکتے۔
گروپال سنگھ نے کہا کہ دیوالی، ہولی، بارہ ربیع الاول، یا بابا گرہ نانک کا جنم دن ہو ہم سب مل کے مناتے ہیں جس سے ایک اچھا میسج جاتا ہے پورے پاکستان میں، اور باہر دنیا کو بھی کہ یہاں پر رہنے والے تمام مزاہب مل کہ کام کرتے ہیں۔
انہوں نے پشتون روایات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ “یہاں پر پشتون کلچر بھی ہے تو اس کی وجہ سے مہمان نوازی بہت اچھی ہے ایک دوسرے کے ساتھ ہمارا آنا جانا ہے”
پاکستان میں اقلیتوں کے خلاف نفرت پر مبنی رویہ روا رکھا جاتا ہے اور اکثر اوقات اقلیتی رہنما دہشتگردی کا نشانہ بنتے رہتے ہیں ایسے میں تمام مذاہب کے ماننے والوں کا ایک دوسرے کے مزہبی تہواروں میں شرکت کرنا عتماد کی فضاء کو قائم رکھنے میں مدد گار ثابت ہوسکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں