121

فاٹا اصلاحات بل پیش نہ ہونے پر اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی

اسلام آ باد: قومی اسمبلی اجلاس کے ایجنڈے میں شامل ہونے کے باوجود فاٹا اصلاحات بل پیش نہ کیے جانے پر اپوزیشن اراکین کی جانب سے ایوان سے واک آؤٹ کیا گیا اور ایجنڈے کی کاپیاں بھی پھاڑ دی گئیں۔ ڈپٹی اسپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی کی زیر صدارت ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں فاٹا اصلاحات بل پیش نہ کرنے پر پیپلز پارٹی، تحریک انصاف اور فاٹا اراکین کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا۔
پیپلز پارٹی، تحریک انصاف اور فاٹا اراکین نشستوں پر کھڑے ہو گئے جب کہ فاٹا ارکان نے قومی اسمبلی کے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں۔ فاٹا سے مسلم لیگ (ن) کے رکن شہاب الدین نے بھی اسمبلی ایجنڈے میں تبدیلی پر احتجاج کیا اور ایجنڈے کی کاپی پھاڑ ڈالی۔

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور شیخ آفتاب نے فاٹا اصلاحات بل پیش نہ کرنے پر وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ بل پر مزید مشاورت کرنی ہے، اس لیے پیش نہیں کیا۔
شیخ آفتاب نے کہا کہ ایجنڈے سے فاٹا اصلاحات کا معاملہ وقتی طور پر موخر کیا گیا، معاملہ دوبارہ ایجنڈے میں شامل کر لیا جائے گا۔قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا کہ یہ حکومت جب اقتدارمیں آئی تب سے یہ معاملہ چل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سمجھ نہیں آ رہی معاملہ ایجنڈے میں شامل کر کے کیوں نکال دیا گیا۔خورشید شاہ نے کہا کہ حکومت صرف پارلیمنٹ میں دن گزار رہی ہے، پوری قوم چاہتی ہے فاٹا ملک کا آئینی حصہ بنے۔

خورشید شاہ نے کہا کہ اگر معاملہ حل نہ کیا گیا تو واک آؤٹ کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ اس بل کے مخالف ہیں وجہ بتا دی جائے، یہی بتا دیا جائے کہ اس بل کو کیوں نکالا؟

ڈپٹی اسپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی نے مداخلت کر کے ایوان کا ماحول ٹھیک کرنے کی کوشش اور کہا کہ وزیر پارلیمانی امور نے وضاحت پیش کر دی ہے، دو تین روز میں بل ایوان میں آ جائے گا۔مرتضیٰ جاوید عباسی نے کہا کہ تکنیکی بنیاد پر بل ایجنڈے میں شامل نہیں کیا جا سکا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں