135

فاٹا میں صفر پولیو کیس کی حیثیت برقرار رکھنے کےلیے انسداد پولیومہم کل سے شروع

پشاور: فاٹا میں تین روزہ انسداد پولیو مہم بروز پیر 18 دسمبر، 2017 سے ایجنسی سرجنز، پولیٹکل انتظامیہ، کمشنرز اور مسلح افواج کی نگرانی اور سرپرستی میں شروع کی جا رہی ہے ۔

فاٹا میں تین روزہ انسداد پولیو مہم 18 دسمبر2017 سے 20 دسمبر2017 تک جاری رہے گی، جس کے بعد رہ جانے والے بچوں کو پولیو قطرے پلوانے اور سرویلنس کا کام جاری رکھا جائے گا۔

مہم کے دوران 5 سال سے کم عمر کے کل 1040281 بچوں کو4349 ٹیموں کی مدد سے پولیو قطرے پلوائے جائیں گے، جسمیں 3964 موبائل ٹیمیں ، 286 فکسڈ ٹیمیں اور99 ٹرانزٹ ٹیمیں شامل ہیں۔

کوآرڈینیٹر ایمرجنسی آپریشن سینٹر(ای او سی) فاٹا محمد زبیر خان نے فاٹا ٹیم کو ہدایات دیں کہ انسداد پولیو مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر کے ہر بچے، خصوصاً رہ جانے والے اور دوران صفر بچوں کو پولیو قطرے پلوانے پر توجہ دی جائے ۔

انہوں نے کہا کہ شمالی وزیرستان ایجنسی اور جنوبی وزیرستان ایجنسی میں انسداد پولیو مہم کے معیار میں بہتری فاٹا کے صفرپولیوکیس کی حیثیت برقراررکھنے کے لئے بہت اہم ہے ۔ انہوں نے خصوصاً شمالی وزیرستان ایجنسی، جنوبی وزیرستان ایجنسی اور خیبر ایجنسی کی ٹرانزٹ ٹیموں کو علاقے میں ہر آنے جانے والے پانچ سال سے کم عمر کے بچے کو پولیو قطرے پلوانے کو یقینی بنانے کی ہدایات جاری کیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پچھلے سولہ (16) مہینوں سے فاٹا میں پولیو کیس رپورٹ نہیں ہوا جو پولیو ٹیموں کی محنت اور (بچوں کے) والدین کی تعاون کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ اور مجھے پورا یقین ہے کہ فاٹا کو پولیو سے پاک کرنے کےلیے یہ محنت اور تعاون اسی جوش و جزبہ سے آئیندہ آنے والے انسداد پولیو مہموں میں بھی جاری رہے گی۔

حال ہی میں (1 دسمبر 2017) کو ہونے والی ٹیکنیکل ایڈوایزری گروپ کے اجلاس میں فاٹا کی پولیو کے خلاف کامیابیوں کو سراہا گیا۔ عالمی بورڈ برائے نگرانی (انٹرنیشنل مانیٹرنگ بورڈ) کی پندرویں (15) رپورٹ میں بھی فاٹا کی بہتر کارکردگی کا اعتراف کیا گیا اورفاٹا کی انسداد پولیو مہموں اور سرویلنس کے اہداف کے حصول کی تعریف کی گئی ۔

فاٹا میں سولہ (16) مہینوں سے پولیو کیس رپورٹ نہیں ہوا۔ فاٹا میں آخری پولیوکیس پچھلے سال 27 جولائی، 2016 کو سامنے آیا تھا، جس کے بعد سے اب تک کوئی پولیو کیس سامنے نہیں آیا۔ فاٹا میں پچھلے سال(2016) میں صرف دو پولیو کیس جنوبی وزیرستان ایجنسی سے رپورٹ ہوئے تھے، جبکہ اس سال (2017) میں کوئی پولیو کیس رپورٹ نہیں ہوا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں