96

ضلع قصور کی بے قصور “زینب”

یہ صرف قصور کی بیٹی زینب نہیں ہے ،یہ میری بیٹی زینب ہے یہ پاکستان کی بیٹی زینب ہے یہ پاکستان کے ہر والدین کی بیٹی ہے دل درد سے بوجھل ہے آنکھیں اشکوں سے تر ہیں سمجھ نہیں آرہاکہ یہ نوحہ کیسے لکھ لوں بس اپنی ٹوٹے ہوئے الفاظ جوڑ کر لکھ رہا ہوں کیونکہ میں نے آواز اٹھانی ہے زینب کے لئے،قصور کی زینب کے لئے اپنی بیٹی زینب کے لئے اس ملک میں رہنے والے تمام والدین کی بیٹیوں کے لئے آؤ سب ملکر ایک ایسی آواز اٹھائیں جس کی گونج سے اقتدار کے ایوان لرز جائیں۔یہ واقعہ کل قصور کے علاقے میں پیش آیا ہے جہاں ایک ننھی سی بچی کو کچھ درندہ صفت لوگوں نے اپنی ہوس شکار بنا نے کے بعد بے دردی سے قتل کردیا۔ زینب کے ماں باپ جو اللہ کے گھر کی زیارت کرنے گئے ہیں اور اس خیال سے کہ اللہ ان کو دنیاو آخرت کے شرم،غم،فساد سے بچائے ۔اللہ ان کے بچوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھے ،اللہ ان کے بچوں کی مستقبل روشن کریں مگر ان کو یہ نہیں پتہ کہ یہاں اس معاشرے میں ایسے لوگ بھی رہ رہے ہیں جو شیطانی ذہن کے مالک اورہوس کے پجاری ہے، ان کو یہ نہیں پتہ کہ جس کی عزت اور زندگی کے لئے اللہ کے گھر میں بیٹھے دعائیں مانگ رہے ہیں وہ ان درندہ صفت لوگوں کے ہاتھ لگ کرابدی نیند سوگئی ہے ۔
قصور میں پیش آنے والا یہ ایک واقعہ نہیں یہاں کئی بہنیں ان درندوں کے ہاتھ لگ چکی ہیں اور اب تک وہ درندے آزاد پھرر ہے ہیں ۔میرے خیال سے اس ملک کا سارا سسٹم الٹا چل رہا ہے یہاں اگر کوئی شریعت کے مطابق کسی کو نکاح کرنے کے لئے ان کی رضا پوچھتا ہے تو وہ غلط ہے اور وہ گناہگار بھی ہے اور اگر ایک ننھی سی بچی کو درندے اپنی ہوس کا نشانہ بنائے اور پر گندگی کے ڈھیر پر مردہ حالت میں چھوڑ کر چلے جائے اس پر کوئی بھی آواز نہیں اٹھاتا ، یہاں اگر کسی وزیر کا کتا بھی بیمار ہوجاتا ہے لوگ اخباروں میں خبر دیتے ہیں اور سوشل میڈیا پر ان کا حال پوچتے ہے کیونکہ یہ ایک وزیر کا کتا ہے اور یہاں روز کہی نہ کہی حوا کی بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بناکر ماردیا جاتا ہے اور اس کا کوئی نہیں پوچھتا ایسے میں اگر صحافی برادران حکومت وقت کے خلاف کلپ چلاتے ہیں یا اخباروں میں خبر لگاتے ہیں تو کہتے ہے یہ ’’یلو جرنلزم‘‘ ہے اور یہ صحافت نہیں ملک کو تباہی کی طرف لے جارہے ہیں اب زرا اس واقع کے بارے میں بھی کوئی وزیر یا دیگر لوگ جن کو عوام کی خدمت کئے بنا نیند نہیں آتی یہ بتلائیں کہ اس واقع پر کیوں چپ ہے سچ تو یہ ہے کہ ان کی خدمت صرف اخبار میں چھپی تصویر اور ٹی وی پر چلنے والا ویڈیوں کلپ ہے اور اکثر صحافی کو منت کرکے وہ ویڈیوں حاصل کرتا ہے اور اپنی سوشل میڈیا پیج پر چڑھا دیتا ہے۔
اس قسم کے واقعات کے بارے میں ’’War Against Rape ‘‘ کی جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق ہر روزتقریباً چار خواتین زیادتی کا شکار ہوتی ہے جبکہ پچھلے سال 369 کیسز میں صرف 108کے خلاف ایف آئی آرز ردج کی گئی ہے اسی طرح سال 2014کے مطابق 772کیسز سامنے آئے ہے اور سال2015میں 1582 رپورٹس درج ہوئے ہیں،وزارت داخلہ کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق پاکستان کے دارالخلافہ میں 39کیسز ریکارڈ ہوئے ہیں جبکہ سال 2015میں 15کیسز ریکارڈ کئے گئے ہیں۔قصور شہر میں زیادتی کے بعد قتل کے 10کیسز درج ہوئے ہیں جن میں ساتھ لڑکیا ں اور تین لڑکے شامل ہے ۔قصور میں پیش آنے والے واقعات اور شکار ہونے والے بچوں کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق ان دس کیسز میں جن بچوں کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا ہے ان کی عمریں پانچ سال سے دس سال کے درمیان ہیں۔قصور شہر( اے ڈویژن )پولیس کوشاہ عنایت کالونی میں ایک زیر تعمیر گھر میں ایک بچی کی لاش ملی جو ٹیوشن کے لئے گئی تھی واپس گھر نہ لوٹی اور بعد میں پتہ چلا کہ اسے بے دردی سے قتل کیا گیا ہے ،جنوری 2017کو کوٹ پیران کی پانچ سالہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا تھا ،اسی طرح فروری2017میں اک چھوٹی بچی کو ایک زیر تعمیر گھر کے اندر زیادتی کا نشانہ بنا کر بعد میں قتل کردیاگیا ایسے اور بھی کیسز ہیں جس کے لئے پولیس سالوں سے کاروائی میں مصروف ہیں ۔وہ درندے بھی اپنی کاروائی میں مصروف ہیں اور آئے روز ایک نہ ایک بچے کو اپنی ہوس کا نشانہ بناررہے ہیں ۔
اگریہی صورتحال رہی تو کئی بھی بچہ بچی علم کی روشنی حاصل نہیں کرسکیں گے کیونکہ انسان دن رات محنت کر رہا ہے اس کایہی مطلب ہے کہ وہ اور ان کی فیملی عزت کی زندگی گزارے۔ اگر اس قسم کے واقعات رونماہوتے رہے تو اس ملک کا مستقبل تاریکی میں ڈوب جائے گا بہتر یہی ہے کہ ہم سب مل کر ان درندوں کو عبرت ناک سزائیں دے ہم سب مل کر پولیس اور دیگر سرکاری اداروں کا ساتھ دیں اور اس غلاظت کو ختم کریں نہیں تو آج جو قصور میں زینب کے ساتھ ہوا یہی کل کو ہمارے بچوں کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔اور صحافت سے جڑا ہر بندہ زینب اور دیگر متاثرہ بچوں کی آواز کو اٹھائیں اور اس وقت تکاخباروں اور ٹی وی چینلزپر چلائیں جب تک کہ ان بچوں کو انصاف نہ ملے اور سب ملکر ایک ایسی آواز اٹھائیں جس کی گونج سے اقتدار کے ایوان لرز جائیں جس کے بعد مجھے یقین ہے کہ یہ لوگ غفلت کی نیند سے بیدار ہوکر بیٹی زینب کے مجرموں کو کیفر کردار تک پہچائیں گے اور ان بچوں کا مستقبل بھی محفوظ ہوجائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں