179

انصاف کی منتظر “زینب”

اس معاشرے کی ہر عورت ذہنی و جسمانی ازیت اور استحصال کا شکار ہے جو علم کی روشنی حاصل کرنے کی خواہش میں گھر سے نکلتی ہے۔کبھی پانچ سال کی عمر میں کبھی 20 اور کبھی 60سال کی عمر میں ان درندوں کی ہوس کا نشانہ بن جاتی ہیں تو کچھ کی لاشیں مل جاتی اور کچھ بس اسی آس میں بیٹی زندگی کے سخت لمحات گزر رہی ہوتی ہیں کہ کب اللہ میاں ان کو اس فریب بھری دنیاسے آٹھائیں گے۔سب لوگ اپنے گھروں میں دیکھے کہ آپکی ماں ،بہن،بیوی اور بیٹی کتنی سختیاں جھیل رہی ہے مگر وہ ہار نہیں مانتی کیونکہ وہ بہت سخت ہے مگر جب اس قسم کے حالات پیش آتے ہیں تو پہلے و ہ کوشش کرتی ہیں کہ اس معاملے کو رفعہ دفعہ کیا جائے مگر جب بات حد سے نکلتی ہے اور گھر کی عزت کا سوال آتا ہے تو وہ خودکشی کرنے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔یہ صرف ایک زینب نہیں اور بھی کئی زینب ہیں جو اس درندگی کا شکار ہوچکی ہے۔قصور میں ان گیارہ بچیوں کے ساتھ زیادتی اور پھر ان کا قتل عام ایسے معاشرے کی عکاسی کرتاہے کہ یہاں انسان کی شکل میں حیوان رہتے ہیں اورجب تک ان حیوانوں کو مظبوط رسیوں سے نہ باندہ جائے یہ اسی طرح اس معاشرے کو خراب کرتے رہے گے۔صوبہ خیبر پختونوا میں ایک ایسی جگہ ہے جہاں لوگ عورت کی عزت کی خاطر سالوں تک لڑتے جھگڑتے ہے حتیٰ کہ دشمنیوں میں خاندانوں کے خاندان مٹ جاتے ہیں وہاں ایک بچی کو برہنہ کرکے گلی کوچوں میں گمایا جاتا ہے یہ اس معاشرے کو کیا پیغام دے رہے ہیں۔ایک بچی ٹیوشن لینے استاد کے پاس جاتی ہے تو وہاں وہ روحانی استاد کے ہوس کا شکار ہوجاتی ہے آخر یہ بچے کہا جائے گے ساری عمر اسی طرح گھر میں بیٹھے رہے گے یہ معاملہ صرف بچیوں کا نہیں بلکہ مرد بچے بھی اس کا شکار ہیں کیا ان کو بھی گھروں پر بٹھادیا جائے یہ ملک پھر کس طرح ترقی کریگا اور اس سے آنے والی نسلوں کو کیا پیغام ملے گا کیا اسی طرح یہ گھر پر بٹھائی ٹرینڈ چلے گا تو پھر ہم میں اور ان لوگوں میں کیا فرق جو جاہل ان پڑھ ہوتے ہیں ۔ذرا دیکھیں ضلع قصور میں پیش آنے والا واقعہ جس نے پورے ملک کو رلا دیا اور ملک ہرفردواحد نے غم و غصے کا اظہارکر رہا ہے۔
آج بھی پورے ملک میں لوگ ننھی زینب کے لئے انصاف مانگنے نکلے ہیں اس واقعے سے ہر کسی کی آنکھیں کل گئی ہے اور سب یہی کہہ رہے ہیں زینب کے قاتل کو پکڑکر سرعام سڑک پر پھانسی دی جائے تاکہ اور لوگ جو اس بیماری میں مبتلا ہیں باز آجائے،آج تمام اخبارات میں اور ٹی وی چینلز پر صرف زینب پر تبصرے شروع ہے۔میں نے کل اک کالم لکھا اور اس کو سوشل میڈیا پر شئیر کیا تو کچھ لوگوں نے اس بارے میں کہا کہ یہ سب ریٹنگ کے لئے لکھا جا رہا ہے ،صبح صنم بلوچ کا پروگرام دیکھا جس میں کسی نے میسج کیا تھا کہ آج تو میڈیا کو اک نیا ٹاپک مل گیا ہے اب سارا دن اس پر گزارے گے اور اپنی ریٹنگ بڑھائے گے۔میں ان لوگوں سے صرف ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں جو اس قسم کی باتیں کرتے ہیں اگر زینب جیسا واقع آپ کے گھر رونما ہوتا تب آپ کیا کرتے ؟سب سے پہلے آپ میڈیا کے سامنے آکر آہ وزاری کرتے کہ اس کی خبر چلاؤ اور اگر نہ چلاتے تو پھر وہ بھی ڈنڈورا ڈھالتے خدارا ہر چیز کو ریٹنگ کا نام مت دو ،ہر ٹاپک ریٹنگ کے لئے نہیں ہوتا ،پاکستانی میڈیا نے پورے ملک میں اس خبر کوجنگل کی آگ کی طرح پھیلادیا ہے اور حکمرانوں کو جگایا اسی طرح عوام نے بھی سوشل میڈیا کے ذریعے اس میسج کو ملک کے کھونے کھونے میں پہنچادیا اور بتا دیا کہ اٹھواورزینب کے لئے آواز اٹھاؤ نہیں تو یہ مرض اس معاشرے میں کینسر کی طرح پھیل جائے گا اور یہ ہماری ننھی کلیوں کو روند دیگا۔

اکتوبر2015میں جب شہباز شریف کی پوتی سکول سے واپسی پر آدھا گھنٹہ لیٹ ہوئی تو پورے ضلع میں پولیس کی دوڑیں لگا د ی گئی آج یہاں کتنی پوتیاں زیادتی کا شکار ہو رہی ہیں مگر صرف نوٹس ہی لیا جاتا ہے افسوس اس ملک کے قانون پر جو امیر کے لئے آسان اور غریب کے لئے مشکل نہیں بلکہ ناممکن ہے اور جب عوام انصاف کے لئے نکلتی ہے تو ان پر بھی فائرنگ کردی جاتی ہے جیسا کہ کل زینب کے لئے انصاف کی آواز اٹھانے والوں پر کی گئی جس کے نتیجے میں دو افراد جان کی بازی ہار گئے اور خود انصاف بھی انصاف کا طلب گاربن گیا ہے ۔آج پورا ملک زینب کے لئے انصاف مانگ رہا ہے۔میرا حکومت وقت سے یہ مطالبہ ہے کہ اس قسم کے واقعات کو نوٹس تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ان درندوں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑے کئے جائے اور سرعام پھانسی کی سزا دی جائے تاکہ آئندہ اس قسم کے واقعات رونما نہ ہوں۔میں صدر پاکستان،وزیر اعظم ،چیف آف آرمی سٹاف،وزیر اعلیٰ پنجاب،عمران خان اور دیگرتمام سیاسی لوگوں، صحافیوں اور ہیومن رائٹس والوں کو درخواست کرتا ہوں کہ سب ملکر اس غلاظت کو ختم کریں ان کو اتنی سخت سزا دے کہ یہ ملک کی تاریخ بن جائے اور مستقبل میں بننے والے درندخواہ کو یہ عبرت ناک سزا یاد ہو۔اور انشاء اللہ مجھے امید ہے کہ ایک بار عبرت ناک سزا دے دی گئی تو کبھی کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں