141

انقلابی اقدامات اور بیوروکریسی

ملک کے تمام معاملات میں بیوروکریٹس ایک اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔سیکشن آفیسرز سے لیکر چیف سیکرٹری تک سب ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ہر ضلع میں ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر ، اسسٹنٹ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر تعینات ہوتا ہیں جن کا کام عوام کے تمام تر مسائل کے حل کے لئے تگ و دو کرنا ہے یہی نہیں بلکہ جتنے بھی ترقیاتی کام ہوتے ہیں کوئی ایمرجنسی پیش آتی ہے ان سب حالات میں بیوروکریسی پیش پیش رہتی ہے یعنی ہر قسم کے حالات میں یہ لوگ اپنا اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اور یہ ملک تب تک کامیابی کی راہ پر نہیں چل سکتا جب تک کہ اس ملک کے بچوں اور نوجوانوں کو بہتر طرز تعلیم، ایک اچھا ماحول اور عوام کی خدمت کے جزبات جیسے اقدامات نا سکھائے جائے ملک کی ترقی کے لئے بچوں اور بڑوں میں ملک کی خدمت کے جذبات ہونا لازمی ہیں۔ جب لوگوں میں ملک کی خدمت کا جذبہ ہوگا تو ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوجائے گا۔اس ترقی میں بیوریوکریسی، عوام،سیاسی لوگ اور طلبا ء ایک جیسی قربانی دیتے ہیں۔ فی الحال میں صرف صوبہ خیبر پختونخوا کو زیر بحث لانا پسندکرونگا کیونکہ صوبائی حکومت نے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے بہت سے کام شروع کئے ہیں جس کی تفصیلات مندرجہ ذیل ہیں۔ اس دھرتی پر تبدیلی کی ہوا چل چکی ہے تمام تر شعبوں میں انقلابی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں صوبے میں یکساں قواعد وضوابط مرتب کئے گئے ہیں،تعلیمی ادارو ں میں واضح تبدیلی لائی گئی ہے اور قومی و بین الاقوامی یونیورسٹیوں،کالجوں کے بہترین قواعدوضوابط کو صوبے کے تعلیمی اداروں میں شامل کیا گیا ہے۔ ان اقدامات کا مطلب تعلیم کے نظام کو بہترین خطوط پراستوارکرنا ہے تاکہ صوبے میں تعلیمی اداروں کا نظام یکساں ہو اورتعلیمی معیار بلند ہو۔ اسی طرح عوام کے دیگرمسائل پر قابو پانے کے لئے پرفارمنس،منیجمنٹ اینڈ ریفارمز یونٹ(PMRU)کے نام سے ایک سیل بنایا گیا ہے۔اس سیل کا کام تمام اضلاع میں عوامی مسائل تک پہنچنا اور اس کا حل نکالنا ہے۔اسی حوالے سے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوااعظم خان نے اپنے دفتر میں تمام اضلاع کے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو دعوت دی تھی اور تمام افسران کو ہدایات دی گئی کہ وہ اپنے اپنے اضلاع میں عوامی مسائل کے حل کے لئے کھلی کچہری کا انعقاد کریں اور عوام کے مسائل قلم بند کرکے فوری طورپر حل کریں۔ چیف سیکرٹری محمد اعظم خان نے افسران سے کہا کہ بیوروکریسی سے ہی عوام کی خدمت ممکن ہے اسی لئے ایسا نظام متعارف کرا رہے ہیں کہ جس سے عوام کے مسائل میں کمی آئے گی یہ ایک ایسا سسٹم ہے جس سے ہرضلع میں عوامی شکایات کے ازالے کا نظام قائم ہوگا،جہاں ہر ڈپٹی کمشنراپنے ضلعے میں عوامی شکایات کے ازالے کاجوابدہ ہوگا۔ہر ضلع میں ٹریفک رش والے مقامات کی تین ہفتوں میں نشاندہی،وجوہات اور فوری حل نکالنا ان کی زمہ داری میں شامل ہوگا۔اسی طرح کھلی کچہری کے باقاعدہ انعقادکے بعد تمام کمشنرزایک ماہ کے اندر سرکاری فائلوں کی نگرانی اور ٹریکنگ کا مربوط نظام وضع کرناشامل ہوگا،تمام اضلاع میں ریونیوریکارڈ کمپیوٹرائز ہوگا جن میں شہریوں کے تحفظات اور مسائل کا حل 15دن کے اندر اندرنکالنا ہوگا،تمام ڈپٹی کمشنرز زمینوں کے متعلق چھ ماہ سے پرانے کیسز اگلے چار مہینوں میں نمٹائے گے۔ چیف سیکرٹری کی ہدایت پر تمام اضلاع کے ڈ پٹی کمشنرز ،اسسٹنٹ کمشنرز اور دیگر اداروں نے کھلی کچہریاں قائم کی جس میں عوام نے ان کو اپنے اپنے مسائل پیش کئے جس پر فوراً ایکشن لیا گیا اور اب بھی کھلی کچہریاں جاری ہیں۔اگر دیکھا جائے جن علاقوں میں غیر قانونی کان کنی اور بلاسٹس ہوتی ہے اور پتھر توڑنے کی وجہ سے وہاں کے لوگوں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے جس کے لئے باقاعدہ اپنی حدود بنائے گئے جس میں آبادی والے علاقوں سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر کان کنی ہوگی جس کے لیے چیف سیکرٹری نے تمام اضلاع کے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی ہے کہ غیر قانونی کان کنی کو روکا جائے اور آبادی والے علاقوں کے اندر کان کنی کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے ،جس پر تمام اضلاع کے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز نے فوری ایکشن لیا اور تمام غیر قانونی کان کنی اور بلاسٹس کو بند کرادیا ۔ ڈپٹی کمشنر مردان ڈاکٹر عمران حامد شیخ نے ضلع مردان میں ای۔گورنمنٹ ڈیجیٹل سکرین متعارف کروائی ہے جس سے اراضی کے انتقالات کی تفصیلات ، اپنا عدالتی کیس(ریونیو کورٹ )،اپنا زرعی آمد ن ٹیکس و ضلع حکومتی ٹیکس،اشیاء خوردونوش کا نرخ نامہ،گاڑی رجسٹریشن کی تصدیق،ڈومیسائل کی تصدیق،اسلحہ لائسنس کی تصدیق،رجسٹرڈ اسٹامپ فروش حضرات کی معلومات،آپ کے قریبی سکول ،ہسپتال کے لئے مختص شدہ فنڈ ،ای فرد،میٹرک ، ایف اے ،ایف ایس سی کا رزلٹ ،مختلف سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کا طریقہ اور شکایات کا اندراج،درج شدہ شکایات سے متعلق معلومات فراہم کی جائے گی جس پر چیف سیکرٹری نے ڈپٹی کمشنر مردان کی اس کوشش کو سراہتے ہوئے تمام اضلاع میں اسی ڈیجیٹل مشینز لگانے کی ہدایت کردی ہے۔پی ایم آر یو(PMRU) نے جتنا بھی کام کیا ہے اس کی تفصیل میں یہاں پڑھنے والوں کے ساتھ شیئر کرتا ہوں ۔پر فارمنس منیجمنٹ اینڈ ریفارمز یونٹ(PMRU) کی ساڑھے 3ماہ کی کارکردگی کہ تفصیل یہ ہے ،گیارہ محکموں نے اپنے آفسز میں 36طریقہ کار کو آن لائن بنایا جس سے عوام کے لئے آسانیاں پیدا ہوئی ہیں۔ پہلے کالج میں اگر کوئی داخلہ لیتا تھا تو وہ کالج کے چکر لگاتا اور ایڈمیشن کے لئے خوار ہوتا تھا مگر اب ایسا نہیں ہوگا صوبے کے تمام کالجز اور یونیورسٹیوں کے داخلوں کے طریقہ کار کو آن لائن بنایا اب کوئی بھی ڈیپارٹمنٹس کا چکر نہیں لگائے گا اسی طرح داخلہ فیس بھی آن لائن جمع کی جائے گی جبکہ ہائیر سٹڈیز کے لئے این او سی اب ڈائریکٹر کالجز سے لی جائے گی ۔سکول اور کالجز کی سطح پر نصابوں میں اخلاقیات پر مبنی ٹاپکس کو شامل کیا گیا اور اسمبلی کے وقت اساتذہ بچوں کو 10سے 15منٹ اخلاقیات پر درس دینگے اور بچوں سے اخلاقیات پر مبنی خاکے کرواینگے ۔تعلیمی اصلاحات کے بعد گاڑیوں کی رجسٹریشن کے طریقہ کار کو بھی بہت آسان بنایا گیا ہے۔ جیسا کہ پہلے 31مراحل طے کرنے پڑتے تھے جبکہ عوام کی آسان کے لئے 31سے کم کرکے صرف 9مراحل تک محدود کردیا گیاہے ۔جب بھی کوئی بندہ حادثے میں فوت ہوجائے تو ان کے لئے جو معاوضہ دیا جاتا تھا اس کے لئے متاثرہ خاندان سال بھر دفتروں کے چکر لگاتے تھے اب اس چکر کو ختم کردیا گیا ہے۔جسکو اضلاع کی سطح پر لایا گیا جس سے لوگ ہفتے کے اندر معاوضہ حاصل کرسکے گے۔ہاؤسنگ سکیم میں پلاٹ کے لئے اپلائی ،قرعہ اندازی اور انسٹالمنٹ پے منٹ کو آن لائن کیا گیا ہے جس کا مطلب خواہش مند افراد اب دفتر جانے کی بجائے گھر میں بیٹھ کر رجسٹریشن کرینگے اور انسٹالمنٹ جمع کرینگے ۔ڈومیسائل کی فراہمی کو بھی آسان بنایا گیا ہے،سکولوں کی سطح پر طلباء بلکل مفت ڈومیسائل حاصل کرسکے گے۔اور دیگر لوگ ڈاکخانے کے ذریعے اپنا ڈومیسائل حاصل کرے گے۔پر سکیل خالی پوسٹوں کو پبلک سروس کمیشن کو بھیجا گیا جس میں گریڈ 20کی 6،گریڈ 19کی184،گریڈ 18کی 864،گریڈ 17کی 2060،سکیل 16کی 632،سکیل 15کی 44،سکیل 14کی 529،سکیل13کی 3،سکیل 12کی 141،سکیل 11کی 214 اور سکیل 9 کی 6 پوسٹیں شامل ہیں ۔اسی طرح 32 محکموں نے 437انکوائری درج کی تھی جس میں 236کو ختمی شکل دی گئی ہے جبکہ 199کیسز پر کام جاری ہے ۔برتھ سرٹیفیکیٹ ،نکاح نامہ،ڈیت سرٹیفیکیٹ اور طلاق نامہ وغیرہ اب ویلج کونسلرز اور نائب کونسلز کے حوالے کیا جائے گا جس کا باقاعدہ نادرہ کے ساتھ ایم او یو سا ئن کیا گیا ہے۔پنشنرز اب کسی دفتر کا چکر نہیں لگائے گے کیونکہ اس سسٹم کے ذریعے پنشنزدرخواست اب آئن لائن کی جائے گی۔ اسی طرح ہوٹلز،ریسٹورنٹس ،ٹریول ایجنسیزاور تریول گائیڈ سسٹم کو بھی آن لائن بنایا گیا جس سے وقت کی بچت ہوگی اور عوام باآسانی رجسٹریشن کرینگے۔ٹورزم ڈیپارٹمنٹ نے بھی سیاحوں کی آسانی کے لئے آن لائن سسٹم متعارف کرایا ہے اب سیاح ایک کلک پر اپنی سپاٹ فکس کرینگے اور اپنا قیمتی وقت بچائے گے۔فارمیسی لائسنز کو بھی کمپیوٹرائزڈ بنایا گیا جبکہ آفیشل کمونیکیشن کے لئے اب وٹس ایپ کا استعمال کیا جائے گا جس سے ٹائم کی بچت ہوگی۔بجلی بلوں کے حوالے سے بھی کمپلینٹ اب آن لائن درج ہوگی اسی طرح کارکردگی کو بہتربنانے کے لئے پٹواریو سمیت محکمہ مال کے اہلکاروں کے تبادلوں کا اختیار بھی متعلقہ کمشنرز کوحاصل ہونگے،ہرضلع میں فوری طور پرپبلک ٹرانسپورٹ اڈوں کی صفائی،ٹریفک کی روانی اور انتظار گاہوں کا قیام ممکن ہوگا،اسی طرح ہر ضلع میں 10دنوں کے اندر عوامی مسائل کے حل کے لئے ون ونڈوآپریشن سسٹم قائم کرنااوراس سے روزمرہ کے معاملات دیکھنا شامل ہوگااور تمام کمشنرز اپنے متعلقہ ڈویژنز میں تمام اقدامات اوراصلاحات کی نگرانی کریں گے۔اسی طرح عوام موبائل پرتصویر یا ویڈیو ارسال کرکے ان جگہوں کی نشاندہی کرسکیں گے جہاں گندگی کے ڈھیر یا دوسرے مسائل ہوں گے۔اسی طرح برن اینڈ ٹراماسنٹر پر کام کی تیزی کے حوالے سے چیف سیکرٹر ی نے سیکرٹری صحت ، سیکرٹری ریلیف،سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو اور دیگر متعلقہ افسران کے ساتھ ایک میٹنگ کی جس میں ان کو کہا گیا کہ آج کل آگ سے جھلسنے کے واقعات بہت زیادہ ہوگئے ہیں زیادہ تر لوگوں کو جہلم و دیگر برن سنٹر بھیجا جاتا ہے جو راستے میں ہی دم توڑجاتے ہیں جس کی وجہ حیات آباد میڈکل کمپلیکس میں برن اینڈ ٹراما سنٹر کو قائم کیا جا رہا ہے جس پرکام کی رفتار کوتیز کیا جائے کیونکہ جتنا جلدی یہ سنٹر قائم ہوگا بہت سی قیمتی جانیں بچی جاسکے گی۔ یقینایہی اقدامات ہمیں نئے پاکستان اور خوشحالی کا پیغام دے رہے ہیں۔ملک کی بہتری کے لئے ہم سب نے ایک ہوکر کام کرنا ہے اور اس ملک کے مستقبل کو اپنے زور بازؤں سے روشن کرنا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں