71

بشراہ اقبال: “حکومت بچوں کے خلاف جرائم کو روکنے کا طریقہ کار تیز کرے تاکہ جلد سے جلد خاتمہ ہو”

پشاور: غیرسرکاری تنظیم ساحل کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سال 2017 کے پہلے چھ ماہ کے دوران بچوں کے کے خلاف جرائم کے 1700 سے زائد کیسز رجسٹر ہوئےہیں، جس میں جنسی زیادتی کے علاوہ بچوں پر تشدد، کم عمری کی شادی اور دیگر مسائل شامل ہیں۔

بچوں کے خلاف ہونے والے تشدد کے حوالے سے خیبرپختونخوا کے دارلحکومت پشاور میں محفوظ بچپن کے نام سے ایک ٹریننگ سیمینار ہوا، جس میں والدین کے علاوہ اساتذہ علماء کرام اور صحافیوں نے شرکت کی۔
خایستا نورین، ماہر نفسیات نے اپنی اواز کو بتایا کہ اگر بچے کے ساتھ کسی بھی قسم کا ابیوز ہورہا ہے وہ صرف جنسی تشدد کی بات نہیں ہے، جسمانی، لسانی و جزباتی تشدد بھی ہوسکتا ہے، ان سب کے بارے میں شعور اجاگر کرنا ہے کیونکہ بہت سے گھروں میں جسمانی تشدد عام ہے، بچوں کی بات سنی نہیں جاتی وہ بہت حساس ہوتے ہیں، والدین کو چاہیے ان کو ٹائم دے ان کی سنے۔

محفوظ بچپن صحافی بشری اقبال کے سوچ کی اختراع ہے، اس موقع پرانہوں نے کہا کہ گھروں کے ساتھ سکول اور کھیل کے میدانوں کو بھی بچوں کے لیے محفوظ بنانا ضروری ہے
بشراہ اقبال، میڈیا ماہر نے اپنی اواز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سے یہ کہونگی کہ جو بھی مکینزم ہے اس کو تیز کیا جائے، تاکہ بچوں کے خلاف جرائم کا جلد سے جلد خاتمہ ہو، تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے منشور میں بتائیں کہ آپ اگلے الیکشن میں کیا حکمت عملی لے کر آئیں گے ہمارے بچوں کے حوالے سے کہ ان کو آپ کس طرح سے تحفظ فراہم کریں گے
بشری اقبال نے میڈیا کے کردار کے حوالے سے کہا کہ بچوں پر تشدد کے بارے میں خبروں سے ہی ہمیں پتہ چلا مگر نیوز چینلز کو سنسی پھیلانے کے بجائے عوام کو مسئلے کی سنگینی سے اگاہ کرنا چاہئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں