101

جمیل چترالی: “حکومت کو اپنی پالیسیاں بدلنی ہوگی کہ آیا انہوں نے جہاد سے پیسے کمانے ہیں یا بھر انڈسٹریز سے”

پشاور: پاکستانی کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے طلبہ میں شدت پسندی کے بڑھتے ہوئےرجحانات، پرتشدد واقعات ایک پریشان کن امر ہے، آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد بننے والے نیشنل ایکشن پلان میں شدت پسندی کی جڑوں کو ختم کرنے کا اعلان کیا تھا مگر اج تین سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اس پر کسی قسم کا عمل نہیں کیا گیا
گزشتہ برس عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے شعبہ صحافت سے تعلق رکھنے والے طالبعلم مشال خان کو توہین رسالت کے الزام میں یونیورسٹی کے دوسرے طلباء نے تشدد کا نشانہ بنا کرقتل کردیا، جبکہ اس سال جنوری میں چارسدہ کے ایک سکول میں طالب علم نے اپنے استاد کو اسی توہین رسالت کے الزام میں قتل کردیا۔
تعلیم حاصل کرنے والے طلباء اس صورت حال سے پریشان رہتے ہیں پشاور یونیورسٹی کے طالب علم انیل ودود کا کہنا تھا کہ اس طرح کے واقعات سے ایک انتہائی برا تاثر جاتا ہے، دنیا ہمیں سٹوڈنٹس کے بجائے دھشتگرد سمجھتی ہیں
تعلیمی اداروں میں بڑھتی شدت پسندی اور عدم برداشت کی وجوہات پر بات کرتے ہوئے یونیورسٹی اف پشاور کے شعبہ صحافت کے چیئرمین فیض اللہ جان کا کہنا ہے کہ اس کی اصل جڑیں افغانستان میں سوویت یونین کی آمد اور اس کے خلاف امریکہ و پاکستان کی وہ حکمت عملی زمہ دار ہے جس میں ہم نے اپنے تعلیمی اداروں میں روسی جارحیت کو روکنے کے لئے مذہب کا استعمال کیا۔
پیس اینڈ کنفلیکٹ سٹڈیز کے ڈائریکٹر جمیل چترالی کے خیال میں موجودہ دور کی پالیسیاں بھی شدت اور نصاب میں شامل نفرت پر مبنی مواد ہے۔
ڈاکٹر فیض اللہ جان نے کہا کہ ہمارے نصاب میں ہی طلباء کو شدت پسندانہ سوچ دی جاتی ہے، کیونکہ نصاب میں صرف ایک خاص مکتبہ فکر کو ہر چیز کا مالک قرار دیا گیا ہےجبکہ باقی تمام مذاہب و قومیتوں کی نفی کی جاتی ہے، انہوں نے کہا کہ موجودہ نصاب سے دوریاں پیدا ہوسکتی ہے قربتیں نہیں
جمیل چترالی نے کہا کہ بصاب کے ساتھ ان اساتذہ کو بھی فارغ کرنا چاہئے جو کہ ایک مخصوص سوچ کی حامل ہو، جو طلباء میں سوال کرنے کی صلاحیت کو دبانا چاہتی ہو اور ان کی تخلیقی صلاحتوں کو قتل کر رہی ہو۔
زونہ جاوید جو کہ پشاور یونیورسٹی کی ہی طالبعلمہ ہے اس نے کہا کہ اکثر اوقات لوگ اپنی زاتی دشمنی نکالنے کے لئے کسی کو قتل کردیتے ہیں اور پھر لوگوں کی ہمدردیاں سمیٹھنے کے لئے مذہب کا نام استعمال کرتے ہیں۔
ڈاکٹر فیض نے کہا کہ ہم نے شدت پسندی کی روک تھام کے لئے قوانین تو بنا دیئے مگر ان پر عمل درامد نہ ہونا بھی ایک خرابی ہے۔ ریاستی ادارے، عدلیہ، مقننہ اور اساتذہ سب مل کر ہی ایک لانگ ٹرم پلین سے ہی اس کا خاتمہ ممکن ہے
ڈاکٹر جمیل چترالی نے کہا کہ ریاستی ادارے آج بھی شدت پسندی کو ختم کرنے میں سنجیدہ دکھائی نہیں دیتی کیونکہ اگر ریاست سنجیدہ ہوتی تو نیشنل ایکشن پلین پر عمل درامد کیوں نہیں کیا جاتا، حکومت کو اپنی پالیسیاں بدلنی ہوگی کہ آیا انہوں نے جہاد سے پیسے کمانے ہیں یا بھر انڈسٹریز سے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں